ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / مڈکیری :قرآن کریم جلائے گئے معاملے کی جانچ کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار کا اصلی رنگ ظاہر ہوجائے گا:منجوناتھ کمار

مڈکیری :قرآن کریم جلائے گئے معاملے کی جانچ کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار کا اصلی رنگ ظاہر ہوجائے گا:منجوناتھ کمار

Thu, 17 Nov 2016 21:23:23    S.O. News Service

http://www.newskannada.in/karnataka-news/manjunath-press-meet/

مڈکیری :17/نومبر (ایس او نیوز) علاقے کے آئیگور دیہات میں قرآن کریم اور کار کو آگ لگائے جانے والے دونوں معاملات قابل مذمت ہیں۔ ان دونوں معاملات کی شفافیت کے ساتھ جانچ ہونے کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار کی حقیقت ظاہرہونے کا ضلع کانگریس ترجمان کے کے منجوناتھ کمار نے خیال ظاہر کیا۔

کانگریسی ترجمان منجوناتھ کمارنے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ معاملات کے متعلق کچھ بھی جانکاری نہ رکھتے ہوئے ایم پی شوبھا کرندلاجے نے بے کار اور بے تکے بیانات دے کر سماج کو مشتعل کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہاکہ مذہبی کتابیں مقدس ہوتی ہیں، ہر ایک دھرم کی کتاب اس کے ماننے والوں کے لئے ایک مقدس مقام رکھتی ہے۔ قرآن کریم کو جلانا بہت ہی گھناؤنی اور ذلیل حرکت ہے، ذات ، طبقہ ، دھرم کی تفریق کئے بغیر متحدہ طورپر اس کی مذمت ہونی چاہئے۔ لیکن اسی معاملے کو بنیاد بنا کر بی جے پی اور سنگھ پریوار سستی سیاست کئے جانے کی کڑی تنقید کی ۔

کانگریسی ترجمان منجوناتھ کمار نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے پریس ریلیز میں کہاہے کہ قرآن کریم جلانے کے بعد پدمنابھ کی کار کو آگ لگانا کئی شہبات کو جنم دیتاہے ۔ مسجد میں کی گئی ذلیل کرتوت کو چھپانے اور معاملے کو دوسرارخ دینے کے لئے کار کو آگ لگانے کا معاملہ پیدا کئے جانے کا الزام لگایا۔  

پریس ریلیز میں شوبھا کرندلاجے کی ملاقات اور بیان بازی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کانگریسی ترجمان نے کہاکہ ایم پی شوبھا کرندلاجے مقامی ایم پی نہ ہونےکے باوجود اچانک آئیگور دیہات کا دورہ کرتی ہیں اور بیان دیتی ہیں کہ مسجد میں عبادت نہیں ہورہی ہے، کسی کی دی گئی جانکاری پر اشتہاربازی کے لئے بار بار دہرا تے ہوئے گھٹیا سیاست بازی کرتے ہوئے امن والے ضلع کورگ میں بے امنی پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں۔ جہاں مسجد واقع ہیں وہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہے ، ہر جمعہ وہاں نماز ہوتی ہے، جولوگ عبادت کے لئے پہنچتے ہیں ان کی سواریوں کو نقصان پہنچا کر فرقہ پرست خوف کا ماحول پیدا کرنے کا منجوناتھ الزام لگایا۔

کارجلانے والے معاملے پر بھی انہوں نے کہا کہ آئیگور کے پدمنابھ کو اچانک آرایس ایس لیڈر کے طورپر پیش کیا جارہا ہے۔ سنگھ پریوار اور رکن اسمبلی پدمنابھ کی کار کو جلانے والے معاملے کو پیش کرکے سیاست بازی کررہے ہیں۔ رکن اسمبلی بھی تعصب و تفریق سے کام لے رہے ہیں ، صرف پدمنابھ سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں دلاسہ دیا ہے، لیکن قرآن کریم کو جلائے جانے سے رنجیدہ اور غمگین مسلمان بھائیوں کو ذہنی دلاسہ دینے اور مسجد کا دورہ کرکے جائزہ لینے کی معمولی کوشش بھی رکن اسمبلی کے ذریعے نہیں ہوسکی ۔ اس طرح رکن اسمبلی گھٹیا سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ضلع کے ارکان اسمبلی صرف بی جے پی کے رکن اسمبلی ہیں۔

قرآن کریم کو جلانے اور کار کو آگ لگائے جانے والے دونوں معاملات کی شفافیت اور ایماندای سے جانچ کی جارہی ہے۔ بہت جلد سنگھ پریوار اور بی جے پی کا اصلی رنگ ظاہر ہونے کی بات کہی۔ ٹیپو جینتی پر بھی بی جے پی اور سنگھ پریوار سیاست کئے جانے کی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی اپنی سیاست بازی کی خاطر ٹیپو جینتی کو بڑے مسئلے کے طورپر پیش کئے جانے کا الزام لگایا ۔ اسی طرح انہوں نے تنویرسیٹھ پر لگائے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ دور میں ٹکنالوجی بہت ترقی کرچکی ہے۔ ایسے میں واٹس اپ آئے ہوئے تصاویر کو دیکھنے کے دوران اچانک  فحش تصاویرآگئے ہیں، اس کو ودھان سبھا کے اندر دیکھے گئے فحش وڈیو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے الزام تراشی کرنا بھی گھٹیا سیاست کرنے کی بات کہی۔


Share: